Time in United States now
सत्यमेव टाइम्स में आपका स्वागत है   مرکزی حکومت نے ذات بات پر مبنی مردم شماری کا اعالن کر دیا۔ قابل ذکر ہے کہ لیے عرصے سے اپوزیشن جماعتیں ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ الھایا جا رہا تھا۔ اس مطالبے کو سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کے مسئلے کے طور پر میں با قاعده مردم شماری بھارت میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کریں تو برطانوی دور حکومت میں سب سے پہلے 1871 تک یہ عمل با قاعده جاری رہا دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے کے دوران بی ذات پات سے متعلق دینا جمع کیا گیا تھا۔ 1931 جمع کیا گیا تھا۔ اگر آزاد بھارت میں ذات بات پر مبنی مردم شماری کی بات کریں 1941 تو 1951 سے روک دیا گیا تھا۔ اس دوران صرف شیڈولڈ کاستس (SCs) اور شیڈولڈ ترانیس STS ) کے اعداد و شمار جمع کیے کے لیے کوئی جامع دینا جمع نہیں کیا گیا تھا۔ ملک میں لمبے عرصے سے ذات ( گئے تھے۔ تاہم دیگر پسماندہ طبقات OBCS پر مینی سروے کا مطالبہ ہوتا رہا لیکن پہلے کی حکومتوں نے اس جنوب خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ مرکزی حکومت نے سماج کے پسماندہ طبقات و ملک کو ترقی کے لیے یہ اہم فیصلہ لیا ہے۔ میں اقتصادی اور ذات پات مردم شماری SECCی گئی جو ذات پات پر مبنی ڈینا اکٹھا کرنے کی ایک سماجی - 2011 کوشش بھر تھی لیکن اس کے نتائج کو مکمل طور پر شائع نہیں کیا گیا۔ حالیہ برسوں کی بات کریں تو ذات پات پر مبنی مردم شائع کی، جس کے میں اپنی ذات بات پر مبنی سروے رپورٹ شماری کے مطالبات نے زور پکڑ لیا تھا۔ بہار حکومت نے 2023 بعد . مطالبہ تیز ہوتا گیا۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری سے سماج کو کیا فائدہ ہوگا اور ملک کی ترقی میں اسکا کیا کردار رہے گا؟ سماجی انصاف ذات پات پر مبنی معلومات سے سماج کے پسماندہ طبقات کی درست شناخت ہو سکتی ہے، جس سے حکومت ریزرویشن پالیسیوں اور سماجی فالح و بہبود کے پروگراموں کو زیادہ مؤثر بنایا بنا سکتی ہے۔ پالیسی سازی اس سروے سے مرکزی حکومت کو مختلف ذاتوں کی معاشی تعلیمی اور سماجی حالت کے بارے میں صحیحمعلومات مل جائے گی۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ کسی خاص مقصد صدر گروه یا مسئلے کو مدنظر رکھ کر ٹارگند پالیسیاں نافذ کی جا اور موثر ہوتی ہیں۔ سکتی ہیں۔ تارکند پالیسیاں بہت مخصوص، مرکوز سماجی مساوات ذات پر مبنی ڈیٹا سے پسماندہ گروہوں کے لیے خصوصی پروگرام بنائے جا سکتے ہیں، جو سماجی عدم مساو انکو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے سیاسی نمائندگی بھارت میں سیاسی نمائندگی کی بات کریں تو یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ سماج کے بڑے طبقے کی نمائندگی سیاسی طور پر بہت ہی کم ہے۔ ذات پات کی مردم شماری سے سیاسی پالیسیوں اور نمائندگی کے فیصلوں میں زیادہ شفافیت | سکتی ہے حصہ داری مل جائے گی۔ اور پسماندہ طبقات کو بھی اپنی معاشی ترقی کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ ہونے کے لئے سماج کا معاشی ترقی بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس سروے سے بھارت میں پسماندہ طبقات کے حالت بہتر کرنے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں مجموعی معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار او پی سی طبقے کی صحیح تعداد اور ان کی سماجی و اقتصادي حالت کو جاننے میں مدد کریں گے، جس سے حکومت کو ان طبقات کے لیے مزید ٹارگنڈ پالیسیاں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت کے ذات بات پر مبنی مردم شماری کے اقدام کو سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی فالح و بہبود کے لیے اپنی عہد بندگی کا ثبوت دیا ہے۔ اس سروے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار ریزرویشن پالیسیوں اور فالحی اسکیموں کا از سر نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کریں گے۔ ذات پر مینی مردم شماری کا فیصلہ زیادہ جامع اور انصاف پسند معاشرے کی طرف بھارت کے سفر میں ایک اہم لمحہ ثابت ہوگا۔ مرکزی حکومت کا یہ مثبت فیصلہ سماجی انصاف پالیسی سازی سماجی مساوات سیاسی نمائندگی اور معاشی ترقی کا دینا جمعكر پروجیکٹ بنانے اور نافذ کرنے میں آسانی ہوگی۔ ڈیٹا پر مبنی اس نقطہ نظر کو خلوص اور احتیاط کے ساتھ اپناتے ہوئے حکومت ساختی عدم مساوات کو ختم کرنے اور ایک ایسے ملک کے تعمیر کی طرف گامزن ہو سکتا ہے، جہاں سماج کا ہر شہری ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دات بات پر مبنی مردم شماری

 

مرکزی حکومت نے ذات بات پر مبنی مردم شماری کا اعالن کر دیا۔ قابل ذکر ہے کہ لیے عرصے سے اپوزیشن جماعتیں ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

الھایا جا رہا تھا۔ اس مطالبے کو سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کے مسئلے کے طور پر

میں با قاعده مردم شماری بھارت میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کریں تو برطانوی دور حکومت میں سب سے پہلے 1871

تک یہ عمل با قاعده جاری رہا دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے کے دوران بی ذات پات سے متعلق دینا جمع کیا گیا تھا۔ 1931 جمع کیا گیا تھا۔ اگر آزاد بھارت میں ذات بات پر مبنی مردم شماری کی بات کریں 1941 تو 1951 سے روک دیا گیا تھا۔ اس دوران صرف شیڈولڈ کاستس (SCs) اور شیڈولڈ ترانیس STS ) کے اعداد و شمار جمع کیے کے لیے کوئی جامع دینا جمع نہیں کیا گیا تھا۔ ملک میں لمبے عرصے سے ذات ( گئے تھے۔ تاہم دیگر پسماندہ طبقات OBCS پر مینی سروے کا مطالبہ ہوتا رہا لیکن پہلے کی حکومتوں نے اس جنوب خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ مرکزی حکومت نے سماج کے پسماندہ طبقات و ملک کو ترقی کے لیے یہ اہم فیصلہ لیا ہے۔

میں اقتصادی اور ذات پات مردم شماری SECCی گئی جو ذات پات پر مبنی ڈینا اکٹھا کرنے کی ایک سماجی – 2011

کوشش بھر تھی لیکن اس کے نتائج کو مکمل طور پر شائع نہیں کیا گیا۔ حالیہ برسوں کی بات کریں تو ذات پات پر مبنی مردم شائع کی، جس کے میں اپنی ذات بات پر مبنی سروے رپورٹ شماری کے مطالبات نے زور پکڑ لیا تھا۔ بہار حکومت نے 2023 بعد . مطالبہ تیز ہوتا گیا۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری سے سماج کو کیا فائدہ ہوگا اور ملک کی ترقی میں اسکا کیا کردار رہے گا؟

سماجی انصاف ذات پات پر مبنی معلومات سے سماج کے پسماندہ طبقات کی درست شناخت ہو سکتی ہے، جس سے حکومت ریزرویشن پالیسیوں اور سماجی فالح و بہبود کے پروگراموں کو زیادہ مؤثر بنایا بنا سکتی ہے۔

پالیسی سازی اس سروے سے مرکزی حکومت کو مختلف ذاتوں کی معاشی تعلیمی اور سماجی حالت کے بارے میں صحیحمعلومات مل جائے گی۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ کسی خاص مقصد صدر گروه یا مسئلے کو مدنظر رکھ کر ٹارگند پالیسیاں نافذ کی جا اور موثر ہوتی ہیں۔ سکتی ہیں۔ تارکند پالیسیاں بہت مخصوص، مرکوز

سماجی مساوات ذات پر مبنی ڈیٹا سے پسماندہ گروہوں کے لیے خصوصی پروگرام بنائے جا سکتے ہیں، جو سماجی عدم مساو انکو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے

سیاسی نمائندگی بھارت میں سیاسی نمائندگی کی بات کریں تو یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ سماج کے بڑے طبقے کی نمائندگی سیاسی طور پر بہت ہی کم ہے۔ ذات پات کی مردم شماری سے سیاسی پالیسیوں اور نمائندگی کے فیصلوں میں زیادہ شفافیت | سکتی ہے حصہ داری مل جائے گی۔ اور پسماندہ طبقات کو بھی اپنی

معاشی ترقی کسی بھی ملک کو ترقی یافتہ ہونے کے لئے سماج کا معاشی ترقی بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس سروے سے بھارت میں پسماندہ طبقات کے حالت بہتر کرنے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں مجموعی معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار او پی سی طبقے کی صحیح تعداد اور ان کی سماجی و اقتصادي حالت کو جاننے میں مدد کریں گے، جس سے حکومت کو ان طبقات کے لیے مزید ٹارگنڈ پالیسیاں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکومت کے ذات بات پر مبنی مردم شماری کے اقدام کو سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کی فالح و بہبود کے لیے اپنی عہد بندگی کا ثبوت دیا ہے۔ اس سروے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار ریزرویشن پالیسیوں اور فالحی اسکیموں کا از سر نو جائزہ لینے کا موقع فراہم کریں گے۔

ذات پر مینی مردم شماری کا فیصلہ زیادہ جامع اور انصاف پسند معاشرے کی طرف بھارت کے سفر میں ایک اہم لمحہ ثابت ہوگا۔ مرکزی حکومت کا یہ مثبت فیصلہ سماجی انصاف پالیسی سازی سماجی مساوات سیاسی نمائندگی اور معاشی ترقی کا دینا جمعكر پروجیکٹ بنانے اور نافذ کرنے میں آسانی ہوگی۔ ڈیٹا پر مبنی اس نقطہ نظر کو خلوص اور احتیاط کے ساتھ اپناتے ہوئے حکومت ساختی عدم مساوات کو ختم کرنے اور ایک ایسے ملک کے تعمیر کی طرف گامزن ہو سکتا ہے، جہاں سماج کا ہر شہری ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

error: Content is protected !!